شاہراہِ قراقرم کی ’بولتی‘ چٹانیں دائمی خاموشی کے خطرے سے دوچار

شاہراہ قراقرم پر سال 1985سے اب تک میری اَن گنت سیاحتوں کے دوران چلاس کے سنگلاخ پہاڑوں سے گزرتے ہوئے جو چیز ہمیشہ میرے لیے باعثِ کشش رہی وہ منفرد نقوش اور زمانہ قدیم کی تحریروں سے آراستہ قدیم کندہ چٹانیں ہیں جو اس علاقے میں سڑک کے ساتھ ساتھ بکھری پڑی ہیں۔

خاص طور پر شتیال اور رائے کوٹ پل کے درمیان تقریباً سو کلومیٹر کا علاقہ قدیم چٹانی نقش و نگاری کی ایک وسیع نمائش گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں پانچ ہزار سے زائد چٹانیں ہزاروں نقش و نگار اور تحریروں سے آراستہ زمانہ قدیم سے انسانی ارتقا کی داستان سناتی ہیں۔